ابنا: سعودی عرب کے مختلف علاقوں منجملہ مشرقی شہروں میں عوامی مظاہروں سے اب یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ علاقےمیں جو عوامی انقلابی تحریکیں جاری ہیں ان کے آفٹرشاک یا زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکے سعودی عرب کے حکام کو پوری طرح جھنجھوڑ رہے ہيں۔ گذشتہ جمعے کو سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے باوجود مشرقی شہر قطیف کے باشندوں نے آل سعود کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے۔ یہ مظاہرے خاص طور پر بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کے خلاف کئے گئے جن کے دوران بحرین میں سعودی عرب کی فوجوں کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی گئی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ مظاہرے ایک ایسے وقت ہوئے جب گذشتہ دو دنوں میں سعودی عرب کی سیکورٹی فورسزنے ملک کے مشرقی شہروں میں کم ازکم پچیس افراد کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران سعودی عرب کے مشرقی علاقوں حتی ریاض اور جدہ شہروں کے باشندوں نے بھی آل سعود کے حکام کی پالیسیوں اور ان کے غلط اقدامات کے خلاف مظاہرے کئے ہيں پہلی نظر میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں عوامی مظاہرے علاقے میں جاری تحریکوں سے متاثر ہوکر ہورہے ہيں اگر چہ یہ بات بھی صحیح ہے لیکن اگر گذشتہ کئي عشروں سے سعودی عرب کے نظام حکومت اور ملک کا نظم ونسق چلانے کے اس طریقہ کار کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ سعودی عرب میں ان دنوں ہونے والے مظاہرے سعودی حکام کےذریعہ اس ملک کے عوام کے حقوق کو یکسر نظر انداز کئے جاتے رہنے کا نتیجہ ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پرخلاف ورزی ہوتی ہے اس کے علاوہ سعودی عرب کی خواتین کو ان کے بنیادی اور ابتدائی ترین حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے سعودی عرب کی جیلیں ایسے قیدیوں سے اٹی پڑی ہيں جنھیں مقدمہ چلائے بغیر قید رکھا گیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کو جن کی آبادی دس سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے اس ملک کے دیگر باشندوں کے مقابلےمیں بہت سے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں تفریق اور امتیازی سلوک عام ہے اور اس صورتحال نے سعودی باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے جس کی وجہ سے عوام کی صورتحال دھماکہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود موجودہ صورتحال میں سعودی عرب میں جو چیز قابل ذکر ہے وہ ان جرائم میں آل سعود کے حکام کی شراکت ہے جن کا بحرین میں آل خلیفہ کے حکام ارتکاب کررہے ہیں۔ بحرین میں سعودی عرب کی فوج کی موجودگی اور بحرین کے نہتے شہریوں کے قتل عام میں سعودی ایجنٹوں کی شرکت ہر دور سے زیادہ سعودی عرب کی حکومت کے خلاف غم و غصہ کا باعث بنی ہوئی ہے اور اس پر پہلے سے بھی زیادہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کا الزام لگایا جارہا ہے ۔درحقیقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ بحرین کے عام شہریوں کے قتل عام ميں سعودی فوج کی شرکت سعودی عرب کے اندر آل سعود کے خلاف حکومت مخالف جذبات کو اور بھی بھڑکا رہی ہے جس سے آل سعود پر وحشت طاری ہوگئی ہے ۔آل سعود کے ایوانوں میں اس وقت سب سے زیادہ خوف اس بات کا پایا جارہا ہے کہ کہيں مشرقی علاقوں میں ہونےوالے مظاہروں کا دائرہ ملک کے دوسرے علاقوں تک نہ پھیل جائے بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین اور یمن جیسے پڑوسی ملکوں میں عوامی انقلاب کو کچلنے کے سلسلے میں سعودی عرب کی کوشش اس لئے بھی تیزی سے جاری ہے کہ کہیں عوامی انقلاب کی یہ لہر آل سعود کی حکومت کو بھی نہ بہا لے جائے ۔ حقیقت تو یہی ہے کہ علاقے میں اسلامی اور عوامی بیداری کی پیدا ہونےوالی لہر جلد یا بدیر عرب دنیا کی اس سب سے قدامت پسند حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گی ۔ اس وقت سعودی عرب کے شہریوں کا سب سے اہم مطالبہ یہی ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات رو بہ عمل لائي جائيں لیکن اس میں شک نہيں کہ سعودی عرب میں اصلاح پسندی کی تحریک کی تقویت اور عوامی مطالبات کے دائرے کے پھیل جانے کی صورت میں اس ملک میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہوگی اور غالبا وہ دن دور نہيں کہ جو نعرے علاقے کی عرب اقوام اپنے ملکوں کے حکمرانوں کے خلاف لگارہی ہيں وہی سعودی عرب ميں بھی لگيں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110